جمعرات 22 اکتوبر 2026 - 10:48
فلسطین؛ جہاں بھوک مظلوموں کو نوالہ بنا رہی!

حوزہ/فلسطین اور غزہ کی پٹی سے آنے والی خبریں اب اتنی تواتر سے آتی ہیں کہ سننے والے کے دل پر ان کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ ہر نئی خبر کے پیچھے کوئی نہ کوئی چولہا ہوتا ہے جو ٹھنڈا پڑ رہا ہے، کوئی ماں ہوتی ہے جو خالی برتن کو دیکھ رہی ہے اور کوئی بچہ ہوتا ہے جو رات کو بھوکا سو جاتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی ادارۂ خوراک نے مالی وسائل کی کمی کے باعث ماہانہ امداد پانے والوں کی تعداد 16 لاکھ سے گھٹا کر 11 لاکھ کر دی ہے۔ یعنی تقریباً 5 لاکھ انسان، جو کل تک ایک مدھم سی امید کے سہارے جی رہے تھے، آج اس سہارے سے بھی محروم ہو گئے۔

فلسطین؛ جہاں بھوک مظلوموں کو نوالہ بنا رہی!

یہ محض ایک عدد نہیں۔ پانچ لاکھ ایک پورا شہر ہے، جس میں بوڑھے بھی ہیں، بیمار بھی، حاملہ عورتیں بھی اور وہ ننھے بچے بھی جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں۔ جو لوگ امدادی فہرست میں باقی رہ گئے ہیں، ان کا حال بھی کچھ بہتر نہیں۔ راشن آدھا کر دیا گیا ہے، نقد امداد پانے والے خاندانوں کی رقم گھٹا دی گئی ہے، اور جنہیں پکا پکایا کھانا ملتا تھا، ان کے لیے روزانہ کھانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے کم ہو کر ڈیڑھ لاکھ رہ گئی ہے۔ دور دراز علاقوں میں بعض گھرانوں کو اب ایک وقت کا گرم کھانا دو دن میں ایک بار نصیب ہوتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ جس گھر میں پہلے ہی نہ چھت مکمل ہے نہ بنیادی سہولتیں، وہاں آدھے راشن کا مطلب کیا ہوتا ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ سردی کا موسم سر پر ہے۔ جو لوگ خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لیے سردی صرف موسم نہیں، ایک اور امتحان ہے۔ بھوکا جسم ٹھنڈ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ ادارے کے اپنے اندازے کے مطابق غزہ کی دو تہائی آبادی، یعنی تقریباً 14 لاکھ انسان، شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور ان میں تقریباً 2 لاکھ ایسے ہیں جو ہنگامی حالت میں جی رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ایک وقت کا کھانا ہی بقا اور فنا کے درمیان فرق ہے۔

فلسطین؛ جہاں بھوک مظلوموں کو نوالہ بنا رہی!

اس المیے کا ایک پہلو وہ پابندیاں بھی ہیں جو گزرگاہوں پر عائد ہیں اور جن کی وجہ سے بنیادی ضرورت کی کئی اشیا اور امدادی سامان کی ترسیل مشکل ہو جاتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی ادارۂ خوراک کے اپنے بیان کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ رسائی کا مسئلہ نہیں بلکہ فنڈز کی قلت ہے۔ یعنی ایک طرف راستے تنگ ہیں اور دوسری طرف وہ ہاتھ بھی سمٹ گئے ہیں جنہیں کھلنا چاہیے تھا۔ ادارے کو آئندہ چھ ماہ کے لیے غزہ اور غربِ اردن کی خاطر تقریباً 450 ملین ڈالر درکار ہیں، اور یہ رقم اس دنیا کے لیے کچھ بھی نہیں جو ہر سال اس سے کہیں زیادہ رقم ہتھیاروں اور نمائشوں پر خرچ کر دیتی ہے۔

سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ دنیا تھکنے لگی ہے۔ جنگ بندی کو ایک سال ہو چکا، اور شاید اسی لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ مگر اس ادارے کے سربراہ کے الفاظ میں وہاں آج بھی نہ تحفظ ہے، نہ امن، نہ بنیادی خدمات۔ خاموش ہو جانے والی توپیں بھوک کو خاموش نہیں کرتیں۔ بھوک کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، اور وہ زبان آنسوؤں اور سسکیوں میں بولی جاتی ہے۔

فلسطین؛ جہاں بھوک مظلوموں کو نوالہ بنا رہی!

تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ قومیں اپنے کمزوروں سے سلوک کے آئینے میں پہچانی جاتی ہیں۔ آج غزہ کے بھوکے بچے پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ اگر ہم نے اس امتحان میں بھی آنکھیں پھیر لیں تو کل کی نسلیں ہمارے بارے میں یہی لکھیں گی کہ وسائل موجود تھے، راستے بھی کھل سکتے تھے، مگر دل بند تھے۔ خدا کرے کہ وہ دن نہ آئے، اور اس سے پہلے کہ سردی کی پہلی لہر کسی خیمے میں کسی بھوکے بچے کی سانس سرد کرے، دنیا کے ہاتھ کھل جائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha